ابنا: صہیونی ریاست نے چھ گھنٹوں کی جنگ بندی کے بعد ایک بار پھر فلسطین پر چڑھائی کر دی، نو روز میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد دو سو سات ہوگئی، صہیونی ریاست نے مشرقی اور شمالی غزہ سے ایک لاکھ فلسطینیوں کو گھر بار چھوڑنے کے لیے کہہ دیا۔ صیہونی فوج نے غزہ میں نو روز کے دوران فلسطینی شہریوں پر ظلم کی انتہا کر دی۔ مصر کی تجویز پر صیہونی حکومت نے پہلے تو جنگ بندی کا اعلان کیا اور پھر صرف چھ گھنٹوں بعد ایک بار پھر فلسطنیوں کا خون بہانا شروع کر دیا۔ جنوبی رفحہ جوہرالدیک اور رفحہ کے گھروں پر بمباری کرکے مزید چھ فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ وحشیانہ کارروائی میں اکتیس معصوم بچے بھی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ بمباری میں اب تک سینکڑوں گھر ملیا میٹ ہوچکے ہیں۔ صیہونی فورسز نے غزہ میں بسنے والے تقریباً ایک لاکھ فلسطنیوں کو گھر بار چھوڑنے کا کہا ہے۔ صیہونی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حماس نے جنگ بندی کی تجویز قبول نہ کرتے ہوئے جنگ بندی کا انتخاب کیا، جس کی اسے بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ غزہ کی سرحد پر تعینات صیہونی فورسز زمینی کارروائی کا آغاز کسی بھی لمحے کرسکتی ہیں۔ اقوام متحدہ نے غزہ کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔ پیرو اور بولیویا میں ہزاروں شہریوں نے صیہونی سفاکیت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ہیںِ۔
دیگر ذرائع کے مطابق غزہ پر صیہونی حکومت کے تازہ حملے میں مزید تین فلسطینی شہید ہوگئے، شہداء کی تعداد دو سو آٹھ ہوگئی، صیہونی حکومت نے مشرقی غزہ کے رہائشیوں کو بھی علاقے سے نکل جانے کا حکم دے دیا، غزہ پر صیہونی طیاروں سے بارود کی بارش جاری۔ بیت لاحیہ میں تازہ حملے میں تین افراد شہید ہوگئے۔ اب تک اکتیس بچے بھی اسرائیلی درندگی کا شکار ہوگئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق شہید ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد شہریوں کی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد چودہ سو سے زائد ہوگئی ہے۔ ادھر بیت لاحیہ پر بمباری کے بعد صیہونی فوج نے مشرقی اور شمالی غزہ کے مزید علاقوں میں لوگوں کو گھر چھوڑنے کے اعلانات کئے ہیں۔ ادھر غزہ باڈر پر راکٹ حملے میں ایک صیہونی شہری ہلاک ہوگیا۔
.....
/169